20 اگست 2017 - 07:58
افغانستان سے متعلق امریکا کی نئی پالیسی

امریکہ نے افغانستان سے متعلق نئی پالیسی تیار کر لی ہے اور اب فیصلے کا انتظار ہے جو کسی بھی وقت سامنے آ سکتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عسکری مشیروں کےساتھ افغانستان میں جاری 16 سالہ جنگ سمیت 'کئی فیصلوں' کے حوالے سے مشاورت ہوگئی ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے رواں سال جولائی میں افغانستان کے حوالے سے نئی منصوبہ بندی کا وعدہ کیا گیا تھا جبکہ کئی بین الاقوامی طاقتوں کی دخل اندازی کے باوجود افغان وار میں اپنی کامیابی کے دعوے کیے گئے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹویٹر میں اپنے پیغام میں میری لینڈ میں ہونے والی مشاورت کے حوالے سے کہنا تھا کہ کیمپ ڈیوڈ میں دو جنرلوں اور عسکری رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم دن گزرا جہاں افغانستان سمیت کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان فیصلوں کا اعلان کب کیا جائے گا اور وہ کس قدر موثر ہوں گے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر شروع میں افغانستان میں چند ہزار فوجیوں کے اضافے کے منصوبے پر غیرمطمئن تھے جبکہ مشیران پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے پورے خطے کے لیے ایک وسیع منصوبہ بندی پر کام کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ افغان جنگ میں طویل عرصے تک ایک لاکھ سے زیادہ فوجی تعینات کرنے کے بعد سابق صدر اوباما کی جانب سے بتدریج فوجیوں کی موجودگی میں کمی لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ افغاستان میں اس وقت امریکا کے 8 ہزار 400 اور نیٹو کے 5 ہزار کے قریب فوجی موجود ہیں۔ افغانستان میں رواں سال یکم جنوری سے مئی تک 2 ہزار 500 افغان پولیس اور فوجی ہلاک ہوئے اور صورت حال اب بھی بدستور خراب ہے

دوسری جانب پاکستان نے امریکا اور افغانستان سے اپنے تعلقات کے حوالے سے موجودہ پالیسی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم پاکستان کی ’نوڈومور‘ اور برابری کی سطح پر تعلقات کی پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔ وفاقی حکومت کے اہم ترین ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وفاق کے اعلیٰ حلقوں کی جانب سے امریکی حکومت کے پاکستان اور افغانستان سے تعلقات کے حوالے سے حالیہ بیانات اور رپورٹس کا جائزہ لیا گیاہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر امریکی حکومت نے ممکنہ طور پر پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے کوئی پابندی لگانے سمیت ڈومور کا مطالبہ کیا تو وفاق ان تمام امور کاجائزہ لے گا۔ پاکستان ٹرمپ حکومت کا کوئی ڈومور کا مطالبہ قبول نہیں کرے گا۔

.......

/169